نارنگ منڈی (SahibMeo): لاثانی ایکسپریس اور فیض احمد فیض پسنجر کی روزانہ گھنٹوں تاخیر، مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا، ریلوے انتظامیہ کی مبینہ غفلت پر شدید تشویش
نارنگ منڈی (SahibMeo) لاثانی ایکسپریس اور فیض احمد فیض پسنجر ٹرینوں کی روزانہ کئی کئی گھنٹے تاخیر نے ہزاروں مسافروں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ریلوے انتظامیہ کی مبینہ غفلت، ناقص منصوبہ بندی اور بروقت تکنیکی معائنے کے فقدان کے باعث روزانہ سفر کرنے والے طلبہ، ملازمین، کاروباری افراد، خواتین، بزرگ شہری اور دیگر مسافر شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا شکار ہیں۔ مسافروں کے مطابق فیض احمد فیض پسنجر صبح تقریباً 8 بجے جبکہ لاثانی ایکسپریس صبح 10 بجے کے قریب لاہور ریلوے اسٹیشن پہنچتی ہیں۔ دونوں ٹرینیں کئی گھنٹوں تک واشنگ لائن میں کھڑی رہتی ہیں، مگر اس دوران ان کا مکمل تکنیکی معائنہ، ضروری مرمت اور حفاظتی جانچ مؤثر انداز میں نہیں کی جاتی۔ حیران کن طور پر جب نارووال کی جانب روانگی کا مقررہ وقت قریب آتا ہے تو اچانک ٹرینوں کو "ان فٹ" قرار دے کر روانگی مؤخر کر دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹرینیں کئی کئی گھنٹے لیٹ ہو جاتی ہیں۔ روزانہ تاخیر کے باعث مسافروں کی بڑی تعداد ریلوے اسٹیشنوں پر گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ ملازمین دفاتر میں دیر سے پہنچتے ہیں، طلبہ کی کلاسیں متاثر ہوتی ہیں، مریضوں کو علاج کے لیے بروقت پہنچنے میں مشکلات پیش آتی ہیں جبکہ کاروباری افراد کو بھی مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے ریلوے سفر کو غیر یقینی اور انتہائی پریشان کن بنا دیا ہے۔ ٹرینوں کی مسلسل تاخیر کے باعث کوچز میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آتا ہے۔ نشستیں کم پڑ جانے سے درجنوں مسافر کھڑے ہو کر سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جبکہ بعض نوجوان اور دیگر مسافر مجبوری کے تحت دروازوں سے لٹک کر یا ٹرین کی چھت پر بیٹھ کر سفر کرتے ہیں، جو کسی بھی وقت کسی بڑے اور المناک حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت انتظامات نہ کیے گئے تو انسانی جانوں کے ضیاع کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ مسافروں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب ٹرینیں کئی گھنٹے واشنگ لائن میں موجود رہتی ہیں تو اسی دوران ان کا مکمل معائنہ، تکنیکی جانچ اور ضروری مرمت کیوں نہیں کی جاتی؟ اگر کسی قسم کی خرابی موجود ہوتی ہے تو اس کی بروقت نشاندہی اور ازالہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ روانگی کے عین وقت ٹرین کو ان فٹ قرار دینا انتظامی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر ریلوے ورکشاپ اور متعلقہ عملہ اپنی ذمہ داریاں بروقت ادا کرے تو نہ صرف ٹرینیں مقررہ وقت پر روانہ ہو سکتی ہیں بلکہ مسافروں کو گھنٹوں انتظار، ذہنی اذیت اور غیر ضروری مشکلات سے بھی بچایا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرینوں کی وقت کی پابندی ریلوے کی ساکھ بحال کرنے اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ متاثرہ مسافروں نے ریلوے انتظامیہ کی مبینہ غفلت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں، روزانہ ہونے والی تاخیر کی شفاف تحقیقات کرائیں، ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائیں اور لاثانی ایکسپریس و فیض احمد فیض پسنجر کی بروقت روانگی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اور مستقل اقدامات کیے جائیں تاکہ ہزاروں مسافروں کو روزانہ درپیش مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔